اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 395 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 395

395 کوئی شکوہ، کوئی گلہ کر لیں آ غموں کا تبادلہ کر لیں صبح ہونے کو ہے، دعا کر لیں آؤ، مضطر! خدا خدا کر لیں یہ گھڑی پھر نہ ہاتھ آئے گی آج سجدوں کی انتہا کر لیں اتنی معصومیت نہیں اچھی شیخ صاحب! کوئی خطا کرلیں جو بغل میں چھپا کے رکھتے ہیں ان بتوں سے بھی مشورہ کر لیں آپ کو اختیار ہے صاحب! جس کو چاہیں اسے خدا کر لیں آپ ہی جس کے ہوں تماشائی کوئی ایسا نہ حادثہ کر لیں راستوں سے کہو کہ منزل کا ہر طرف سے محاصرہ کر لیں آنکھ سے عرض مدعا کے لیے مستقل اک معاہدہ کر لیں وہ جو بستا ہے شہر پنہاں میں اس کی تصویر گھر بلا کر لیں وقت بے وقت اس کو یاد کریں اس کو چھیٹر میں، اُسے خفا “ کرلیں ہم ہیں کوہ ندا کے بن باسی لفظ ہم سے معانقہ کر لیں منطق الطیر جاننے والے پر پرواز کو بھی وا کر لیں شہر میں ہے جو بے صدا مخلوق اس سے مل کر نہ جی برا کر لیں جو بھی دعویٰ کریں، کریں مضطر ! پہلے اپنا محاسبہ کر لیں