اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xliv of 679

اشکوں کے چراغ — Page xliv

ام حرف وحكايت ( مکرم احمد ندیم قاسمی صاحب) سنا ہے کہ تلاش گم شدہ کے بعض اشتہارات بہت نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً مشہور ہے کہ ایک شخص کا بریف کیس چوری ہو گیا۔اس نے پولیس میں رپٹ لکھوانے کی بجائے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کا مضمون کچھ اس طرح کا تھا۔محترم چور صاحب قبلہ ! السلام علیکم آپ نے میرا بریف کیس چرایا ہے، اس میں میرے پاسپورٹ کے سوا جو کچھ بھی ہے دو بریف کیس سمیت اپنے پاس رکھیے مگر کسی طرح یہ پاسپورٹ مجھے بھجوادیجیے۔چند اور کاغذات بھی ہیں۔ان کا غذات میں سوسو کے چھ نوٹ بھی شامل ہیں۔یہ بھی اپنے کام میں لائیے۔بریف کیس پرانا ہے اس لیے آپ کو اٹھاتے ہوئے شرم آئے گی کیونکہ جب آپ چوری سے اتنا کچھ کما لیتے ہیں تو سوسائٹی میں آپ ماشاء اللہ بڑے معزز ہوں گے۔چنانچہ اگر آپ کا کوئی برخوردار پرائمری میں پڑھتا ہے تو بریف کیس میری دعا اور پیار کے ساتھ اسے دے دیجیے۔مجھے صرف میرا پاسپورٹ درکار ہے! اور سنا ہے کہ دوسرے ہی روز اس شخص کو اس کا پاسپورٹ رجسٹرڈ پارسل کے ذریعے موصول ہو گیا تھا۔البتہ جب ہم مطالعے کی عینک بر وقت رکشا حاصل کرنے کی خوشی میں، رکشا ہی میں چھوڑ کر اتر گئے تھے تو ہم نے رکشا ڈرائیور کو مخاطب کر کے متعدد کالم لکھے۔پھر ان سواریوں کو مخاطب کیا جو ہمارے بعد اس رکشا میں بیٹھی ہوں گی۔ہم نے ان کی شرافت و نجابت