اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 390 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 390

390 چاند تاروں سے کنج قفس بھر گیا رات مہمان تھا آسماں شہر میں شہر کا ناز تو شہر سے جا چکا کس لیے آئے ہو اب میاں! شہر میں ایسی برسات میں تم ہی مضطر! کہو اٹھ رہا ہے یہ کیسا دھواں شہر میں (۱۹۸۴ء)