اشکوں کے چراغ — Page 386
386 ہمی تو ہیں کہ جو صحرائے بے تمنا میں شعورِ منزل و تکلیف جادہ رکھتے ہیں تو آزما تو سہی حوصلے فقیروں کے مکان تنگ سہی، دل کشادہ رکھتے ہیں جھگڑ رہے ہو عبث آنسوؤں سے تم مضطر ! یہی تو ہیں جو سفر کا ارادہ رکھتے ہیں
by Other Authors
386 ہمی تو ہیں کہ جو صحرائے بے تمنا میں شعورِ منزل و تکلیف جادہ رکھتے ہیں تو آزما تو سہی حوصلے فقیروں کے مکان تنگ سہی، دل کشادہ رکھتے ہیں جھگڑ رہے ہو عبث آنسوؤں سے تم مضطر ! یہی تو ہیں جو سفر کا ارادہ رکھتے ہیں