اشکوں کے چراغ — Page 380
380 لیٹے ہوئے تھے ریتلے سائے زمین سوکھے سمندروں سے کسی کو مفر نہ تھا ہم نے لحد میں چین سے بستر بچھا لیے مٹی میں کوئی معرکہ خیر و شر نہ تھا اس مطلق العنان کا نعرہ بھی تھا غلط جمہور کا یہ فیصلہ بھی معتبر نہ تھا تو بھی تو آ رہا تھا نظر اس کی اوٹ میں مضطر کا انحصار فقط چاند پر نہ تھا