اشکوں کے چراغ — Page 357
357 کرسی پہ بیٹھ کر بھی وہ کتنا ملول تھا میں مسکرا رہا تھا، یہ میرا اصول تھا عهد غم فراق میں اوج صلیب پر پتھر جو تیرے نام پہ کھایا تھا پھول تھا آیا تھا میری دنیا و دیں کو سنوارنے آنسو جو تیری یاد میں ٹپکا رسول تھا مجھ کو تھی تیرے نام کی غیرت کہ پھر مجھے تحفہ جو گالیوں کا ملا تھا قبول تھا دامن کے داغ دھل گئے تھے ایک بوند سے آنسو نہیں تھا ابرِ کرم کا نزول تھا اس کو یہ زعم تھا کہ وہ میر سپاہ ہے مجھ کو یہ فخر میں ترے پاؤں کی دھول تھا اس کو تھا اقتدار کا نشہ چڑھا ہوا اس کا اصول یہ تھا کہ وہ بے اصول تھا اب تیرے بعد تیرا حوالہ دیے بغیر جو حرف بھی زبان پہ آیا فضول تھا تھا شعر و شاعری سے نہ مضطر کا واسطہ مقصود اس کا تیری رضا کا حصول تھا