اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 343 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 343

343 نہیں وہ شخص تو ایسا نہیں ہے اسے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے نہیں یوں بھی کہ وہ ملتا نہیں ہے مگر مجبور بھی اتنا نہیں ہے رکیں تو آپ رک جاتے ہیں دریا مگر ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے وہ سچا بھی ہے، سچا بھی، حسیں بھی و اگر دیکھا نہیں ہے اسے اسے چاہا کرو تنہائیوں میں وہ سب کا ہے فقط میرا نہیں ہے اسے معلوم ہے ساری حقیقت اگر چہ منہ سے کچھ کہتا نہیں ہے وہی زندوں میں ہے اب ایک زندہ وہ مر کر بھی کبھی مرتا نہیں ہے