اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 342 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 342

342 اندر سے اگر نہ مسکراؤں اس شور میں ٹوٹ پھوٹ جاؤں اے حسنِ تمام! تیرے احساں چاہوں بھی تو کس طرح بھلاؤں نسبت ہے مجھے بھی اک حسیں سے گمنام ہوں، نام کیا بتاؤں مدت سے ہوں منتظر صدا کا تو بولے تو میں بھی گنگناؤں تو آئے جو نور میں نہا کر میں راہ میں جسم و جاں بچھاؤں پلکوں میں سمیٹ لوں ستارے آئینوں کو آئنہ دکھاؤں تو آ تو سہی ، میں اس خوشی میں جاں وار دوں، تن بدن لٹاؤں اس چاند کی چاندنی میں منظر! کیا جلاؤں