اشکوں کے چراغ — Page 329
329 سپنوں میں بادلوں کی بارات لے کے آنا ساتوں سمندروں کی خیرات لے کے آنا جب قرب کی قیامت برپا ہو جسم و جاں میں دو چار ہجر کے بھی لمحات لے کے آنا ترتیل سے کریں گے ہر زخم کی تلاوت آنا تو فرقتوں کی تورات لے کے آنا پیاسوں کی التجا ہے اے پانیوں کے مالک! دشت نجف میں اب کے برسات لے کے آنا حالات کا ہمالہ ہے ٹوٹ جانے والا موسم جو مستقل ہو وہ ساتھ لے کے آنا اے رات کے مسافر ! اس سانولے سفر میں جو دن کی ہمسفر ہو وہ رات لے کے آنا داخل نہ ہو سکو گے بچوں کی سلطنت میں آنا تو کوئی سچی سوغات لے کے آنا