اشکوں کے چراغ — Page 325
325 آپ کے لب پر پیار ہو، دل میں پیار نہ ہو آپ کا لب سرکار کہیں عیار نہ ہو تیر نظر کے گھائل کیونکر قائل ہوں جب تک تیر نظر کا دل کے پار نہ ہو چاند کھڑا ہے مدت سے دروازے میں چہرہ بھی پیلا سا ہے، بیمار نہ ہو وہ اس جنگ میں لڑنے کے لیے مت نکلیں جن کے پاس محبت کی تلوار نہ ہو کوئے ملامت میں جانے سے ڈرتا ہے دل دیوانه اتنا بھی ہشیار نہ ہو منگتا مانگتا جائے اپنے داتا سے داتا کو بھی دینے سے انکار نہ ہو سورج چاند ستارے سب گہنا جائیں آخرِ شب وہ آنکھ اگر بیدار نہ ہو