اشکوں کے چراغ — Page 316
316 معترض! مجھ کو بھی ہوس ہے ایک فرق لیکن ہوس ہوس میں ہے نہ ترے کام سے ہے مجھ کو کام نہ ترا جھوٹ میرے بس میں ہے آج وہ بھی ہے درپئے آزار جو نہ دو چار میں، نہ دس میں ہے میں قفس میں تو ہوں مگر مضطر ! اک مزہ ہے جو اس قفس میں ہے
by Other Authors
316 معترض! مجھ کو بھی ہوس ہے ایک فرق لیکن ہوس ہوس میں ہے نہ ترے کام سے ہے مجھ کو کام نہ ترا جھوٹ میرے بس میں ہے آج وہ بھی ہے درپئے آزار جو نہ دو چار میں، نہ دس میں ہے میں قفس میں تو ہوں مگر مضطر ! اک مزہ ہے جو اس قفس میں ہے