اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 305 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 305

305 قصیدہ تہنیت بر موقع آغاز نشریات ایم ٹی اے یہ جو ہم اس قدر رہے ہیں ملول اس کا انعام ہو گیا ہے وصول سارے شکوے گلے ہوئے معزول سارے رنج اور غم گئے ہیں بھول آسماں سے سر منارہ ” شرق» لا ابن مریم کے “ کا ہو رہا ہے نزول روز اُترتا ہے روز کھلتا ہے وہ گلاب کا پھول مسکراتا ہوا روز چڑھتا ہے چاند چہرے کا روز ہوتا ہے چاندنی کا نزول روز للکارتا ہے باطل کو سیر نہر فرات ”ابن بتول“ اس کی للکار، اس کا زور خطاب ایک تیغ برهنه و مسلول روز اس کا علاج کرتا ہے قوم کو یہ جو ہو گیا ہے زہول جھوٹ بھی ان کا بن رہا تھا سچ میرا معقول بھی تھا نا معقول غسل صحت کیا ہے ٹی وی نے اس میں شیطان کر گیا تھا حلول فوج در فوج آ رہے ہیں لوگ ہر طرف کھل رہے ہیں پھول ہی پھول چاند چہرے کو دیکھ لو اک بار کیوں عبث دے رہے ہو بحث کوطول آج رُوئے زمیں پہ زندوں میں ایک ہی آسماں ایک ہی آسماں پہ ہے مقبول لے ایم ٹی اے کے زیر استعمال مشرقی یورپ کا سیٹلائیٹ مراد ہے۔ے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی والدہ محترمہ مرحومہ کا اسم گرامی بھی مریم ہے۔