اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 292 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 292

292 جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے بھی دل ہیں لرزاں تجھ پہ اُترا جو سر غار حرا ، کیا ہو گا تو کہ اللہ کا سایہ ہے اے حسنِ کامل! جو ترا سایہ ہے وہ تجھ سے جدا کیا ہو گا تو محمد بھی ہے ، احمد بھی ہے، محمود بھی ہے تیری توصیف کا حق ہم سے ادا کیا ہو گا تیرا احساں ہے کہ میں نعت لکھوں، تو خوش ہو ورنہ میں کیا ہوں، مرا لکھا ہوا کیا ہوگا