اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 284 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 284

284 وہ ہے مظہر قدرتِ ثانیہ وہ اللہ کی ایک آیت تو ہے وہ سچا ہے بچوں کا سردار بھی کہ ساتھ اس کے کچی جماعت تو ہے جو کہتا ہے اس کو وہ کرتا بھی ہے کہ بچوں کی یہ اک علامت تو ہے وہی تو ہے مہدی کا فرزندِ خاص وہی ہو بہو شکل وصورت تو ہے خلافت کی دستار ہے زیب سر امانت کی کاندھوں پہ خلعت تو ہے اٹھایا ہوا ہے جو بہر خدا یہی بار بار امانت تو ہے اسے غم اگر ہے تو اسلام کا اسے ہے اگر تو یہ حسرت تو ہے فتوحات اس کی گنوں کس طرح کہ ہر کام میں اس کے برکت تو ہے پہاڑوں سے بھی ہنس کے ٹکرا گیا اگر سوچیے یہ کرامت تو ہے بچا لے گیا ہم کو طوفان سے اسی کا یہ فہم و فراست تو ہے وہی ڈھال ہے میرے تیرے لیے جماعت اسی سے جماعت تو ہے وہ تعویذ ہے آج سب کے لیے اسی سے ہماری حفاظت تو ہے ہے باطل میں جس سے سراسیمگی اسی کا یہ زور خطابت تو ہے زباں پر کھلے ہیں محبت کے پھول بیاں میں عجیب ایک لذت تو ہے مدرس، مرتبی، مزکی وہی وہ سر چشمہ رشد و حکمت تو ہے اگر مل سکے تو اسے جا کے مل کر تسکین جاں کی یہ صورت تو ہے سدا جاری ساری رہے سلسلہ کہ یہ سلسلہ تاقیامت تو ہے سلسبیل وہی وارث باغ جنت تو ہے وہی آج کوثر، وہی وہی آج ہے مہبطِ جبرئیل اُسی پر اُترتا ہے ربّ جلیل