اشکوں کے چراغ — Page 270
270 کچھ یہاں اور کچھ وہاں گزری خوب گزری جہاں جہاں گزری حال دل سن کے ہو گئے خاموش بات سچی تھی ، کچھ گراں گزری ان کا غصہ تھا، پیار تھا، کیا تھا! اک قیامت تھی ناگہاں گزری پنکھا جھلتی ہوئی وفاؤں کا یاد یارانِ مہرباں گزری نور میں ڈھل کے آنسوؤں کی پری دیدہ تر سے پرفشاں گزری چاند نکلا نہ ہم نشیں آئے شام فرقت دھواں دھواں گزری دن گزارا خدا خدا کر کے رات کانٹوں کے درمیاں گزری یہ قیامت جو ہم پہ گزری ہے تجھ پر اے بے خبر! کہاں گزری