اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 269 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 269

269 ذکر شبنم نه فکر خار کرو گل کو چھوڑو ، چمن سے پیار کرو آدمی آدمی کا دشمن ہے آدمی کا نہ اعتبار اعتبار کرو مفت کی مے ہے، يي سکو تو پیو فصل گل کا نہ انتظار کرو ہر تم ہے کوئی تم سے پیار کرتا بھی پھولو! کسی سے پیار کرو اگلی پچھلی خطائیں کر کے معاف شرمساروں کو شرمسار کرو اب نہ آئے گا بزم میں کوئی اب کسی کا نہ انتظار کرو اور بھی لوگ ہیں زمانے میں ذكر مضطر نہ بار بار کرو