اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxxi of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxxi

۲۸ مرتفع ہے لیکن یہ نظم اس سطح مرتفع سے بلند ہونے والی ایک چوٹی ہے۔کس کس شعر یا مصرعے کا حوالہ دوں۔”جنگل میں جس طرح ہوں گوالے پڑے ہوئے“ یا ”جیسے ،، سمندروں میں ہمالے پڑے ہوئے۔یا پھر اچانک قافیے کا ایک چونکا دینے والا استعمال جو اس مصرعہ میں ملتا ہے۔”جونم بھی راہ میں ہوں اٹھالے پڑے ہوئے“۔یہ مصرعے خود اپنی ذات میں ویسا ہی منظر پیدا کر رہے ہیں کیونکہ پہلا مصرعہ اگر سطح مرتفع ہے تو یہ مصرعے اس سے نکلی ہوئی چوٹیاں ہیں۔آپ نے تو سمندروں میں بھی ہمالے ڈال دیئے لیکن ان سب میں جو غیر معمولی طور پر پیارا شعر ہے مجھے لگا ، وہ یہ ہے کہ اترا تھا چاند شہر دل و جاں میں ایک بار اب تک ہیں آنگنوں میں اجالے پڑے ہوئے خدا تعالیٰ کے فرستادہ بندوں کی آمد کے بعد حقیقت میں بالکل یہی منظر مدتوں دکھائی دیتا رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آئے ہوئے ایک صدی بیت گئی لیکن آج تک ہمارے آنگنوں میں اجالے پڑے ہوئے ہیں۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔عمر و صحت میں برکت دے اور اس قادر الکلامی کو مزید تقویت اور جلا بخش دے۔عید مبارک ہو۔لندن /22۔6۔1990 ☆☆☆ روز نامہ الفضل کے شمارہ 3 فروری میں آپ کی نظم ” تضمین “ بہت اعلیٰ پایہ کی نظم ہے اور قابل داد ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت عمدہ ملکہ عطا فر مایا ہے۔اس نظم کا ہر شعر قابلِ ستائش ہے۔لیکن اس شعر کا کیا کہنا۔پر تاج ہم نے پہن کے کانٹوں کا دار استراحت کی