اشکوں کے چراغ — Page 261
261 اچانک جھنگ کی تقدیر جاگی ہوا بیدار رانجھا ، ہیر جاگی بغاوت ہو گئی تیری گلی میں مری سوئی ہوئی تقدیر جاگی مصور کے قلم سے خون ٹپکا خروش رنگ سے تصویر جاگی یہ کیسا شور ہے زندانیوں میں در زنداں ہلا، زنجیر جاگی غزل بن کر بہا خونِ شہیداں کفن شوخی تحریر جاگی نہ آنسو ہیں، نہ اب آہیں ہیں مضطر ! یونہی کچھ روز سے تاثیر جاگی