اشکوں کے چراغ — Page 255
255 بروفات حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی پھر وہی ذکر سر وادی سینا ہو گا وہی ساقی ، وہی بادہ، وہی مینا ہو گا اب اسی دُھن میں بھرے شہر کو جینا ہو گا تجھ سے ملنے کا بھی کوئی تو قرینہ ہو گا اشک در اشک تجھے ڈھونڈنے نکلیں گے لوگ وصل کے عہد میں فرقت کا مہینہ ہو گا ہجر کی رات ہے رو رو کے گزاریں گے اسے ہر گلی کوچے میں اجلاس شبینہ ہو گا صبح تقدیر جدھر چاہے گی لے جائے گی ہم نہیں ہوں گے، مقدر کا سفینہ ہو گا جسم کے رہ جائیں گی عشاق کی نظریں اس پر تیرے کوچے میں جو اُمید کا زینہ ہو گا تیری ہر ایک ادا رستہ دکھائے گی ہمیں تو نہیں ہو گا، ترا دیدہ بینا ہو گا تجھ سے ملنے کی فقط اس کو اجازت ہو گی جس کے اندر نہ انا ہو گی، نہ کینہ ہو گا