اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxx of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxx

۲۷ تینوں ٹھرک مکان دا سانوں ویل زمین تیری روزی شہر وچ تے ساڈے دانے پینڈ اس میں یا دونوں جگہ ” تے داخل ہونا چاہیے کہ اس سے سلاست پیدا ہوتی ہے یا پھر دونوں جگہ سے ” تے نکال دینی چاہیے اور اگر پہلے مصرعہ میں ” تے داخل نہیں کرنی تو پھر دوسرے مصرعے سے وچ نکال دیں۔عین مصرعہ کے ”و“ جو وچ آیا ہوا ہے وہ کچھ او پر اسا لگ رہا ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ بھی انہی جگہوں میں سے ہو جن کے متعلق میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار پہلے ہی کر دیا ہے۔بہر حال نظم خوب کہی ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔اللہ آپ کے زور قلم کو اور بڑھائے اور صحت و سلامتی سے رکھے۔لندن/8۔5۔89 الفضل کے 24 اپریل کے شمارہ میں آپ کی نظم پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو جو قدرت کلام عطا ہوئی ہے، اس کے چرچے تو مدتوں پہلے کالج کے زمانے کی شعروں کی محافل سے نکل کر عام ہو گئے اور کالج کے طلباء میں ہی نہیں بلکہ ربوہ کے دوسرے نو جوانوں میں جن کو کچھ ادبی ذوق تھا ، بہت ہی ہر دلعزیز ہوئے۔آپ کے کلام میں انفرادیت اور اپنی خاص منفرد شخصیت کی چھاپ ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔لیکن یہ کلام جو الفضل میں شائع ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ خاص طبیعت کی لہر میں کہا گیا ہے اور عام کلام سے بلند قامت ہے۔اس کلام کو دیکھ کر مجھے وہ سفر یاد آ گیا جو آپ کے ساتھ غالباً 1945ء میں تبت کی سرحد کی جانب اختیار کیا تھا۔لائنگ پاس سے گزرکر لاہول کی وادی میں آپ کی قیادت میں کالج کے طلباء کے ساتھ میں بھی شامل تھا۔وہ علاقہ سطح مرتفع ہے جس کی بلندی کم از کم 10 ہزارفٹ بلند ہے لیکن سطح مرتفع سے بھی بلند تر پہاڑوں کی چوٹیاں نکلی ہوئی ایک عجیب رعبناک منظر پیدا کرتی تھیں۔پس آپ کا کلام بالعموم سطح