اشکوں کے چراغ — Page 253
253 حضرت صاحبزدہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( بعد میں حضرت خلیفہ لمسیح الثالث) کی بلا جرم و جواز اسیری پر اپنوں ہی کا جھگڑا ہے نہ دشمن سے ہے کچھ کام ہے ہم پہ فقط تیری وفاداری کا الزام اے عشق! مجھے گھیر کے میدان میں مت لا گمنام ہی اچھا ہوں، مجھے رہنے دے گمنام دیکھا ہے ضرور اس نے جلال رخ تاباں کیوں عہد ہوا جاتا ہے یوں لرزہ بر اندام دودھ سے سے پانی کو جدا کر کے رہے گا یہ فتنہ تازہ کہ جو اٹھا ہے سر بام اترا نہ اس آغاز کو انجام سمجھ کر دیکھا ہی نہیں تو نے اس آغاز کا انجام نا کام نہیں ہوتا محبت میں کبھی عشق وہ عشق ہی ناقص ہے جو ہو جاتا ہے ناکام