اشکوں کے چراغ — Page 241
241 روح زخمی، جسم گھائل ہو گئے ہر طرف پیدا مسائل ہو گئے ہو گئے آئنہ دیکھا تو قائل اپنے ہاتھوں آپ گھائل ہو گئے جس قدر ٹکڑے تھے میرے جسم کے میرے ہی رستے میں حائل ہو گئے ہم نے مانگا ہے انھیں اللہ سے ان کی خاطر ہم بھی سائل ہو گئے میرے حصے کے تھے جو رنج و الم حد سے گزرے تو وسائل ہو گئے جب کبھی ٹوٹے ہوئے بازو اُٹھے ان کی گردن میں حمائل ہو گئے آتے آتے اعتبار آ ہی گیا ہوتے ہوتے وہ بھی قائل ہو گئے