اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 236 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 236

236 غیر بھی اب تو ہو گئے قائل گر ہیں اپنے خموش تب کیا ہے آگ سی ہے لگی ہوئی دل میں تیرے دیدار کی طلب کیا ہے دین مل جائے اور دنیا بھی ساتھ تو بھی ملے عجب کیا ہے تیری رحمت غضب پر حاوی ہے تیرے آگے ترا غضب کیا ہے چادر عفو میں چھپا لیجے دیر اس میں شہ عرب کیا ہے چاند نکلا، اندھیرے بھاگ گئے فرق اب بین روز و شب کیا ہے نام مضطر ہے، عشق ہے مذہب ہم نہیں جانتے لقب کیا ہے