اشکوں کے چراغ — Page 218
218 چراغ شام مرجھایا تو ہو گا سحر کا رنگ گدرایا تو ہو گا ابھی تک پتیاں بکھری پڑی ہیں گلوں کا قافلہ آیا تو ہو گا اچانک کھل گیا دل کا معمہ خردمندوں نے الجھایا تو ہو گا پرائے دیس کی آبادیوں میں غریب شہر گھبرایا تو ہو گا سنا ہے دل کی وحشت میں کمی ہے یہ باغی راہ پر آیا تو ہو گا چلو دل کے خرابے ہی میں گھومیں کہیں دیوار کا سایہ تو ہو گا وہ مضطر ! ان کے ہاں پھر جا رہا ہے اسے یاروں نے سمجھایا تو ہو گا