اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 208 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 208

208 میں جب بھی سر دیدہ تر گیا نہاں خانہ دل سے ہو کر گیا ہوئے جب سے ہم آہٹوں کے اسیر وہ سننے سنانے کا چکر گیا اندھیروں کے انجام کو دیکھنے پر چشم تاروں کا لشکر گیا ستارے ستاروں سے ٹکرا گئے خلاؤں کا دل شور سے بھر گیا کبھی راستے دشت میں رہ گئے میں خود دشت کے یار اکثر گیا سر دار کوئی صدا تھی نہ شور تو کیوں اپنی آواز سے ڈر گیا میں بیٹھا رہا دل کی دہلیز نہ باہر رُکا میں، نہ اندر گیا وہ صدیوں سے اس گھر میں آباد ہے ابھی چاند کھڑکی سے باہر گیا ازل آرزوؤں کی دیوار پر جو بیٹھا ہوا تھا کبوتر گیا وہ پھر آ گئی زندگی راہ پر وہ پھر ان کے ہاں آج مضطر گیا