اشکوں کے چراغ — Page 200
200 کب سے گھرا ہوا ہوں صدا کے حصار میں میرے مجیب! میری فغاں کا جواب لا پیاسا ہوں، مجھ کو بخش دے نہر فرات غم اس دشتِ بے سحاب میں کوئی سحاب لا پاؤں میں اس کو روندتا پھرتا رہا ہے تو اللہ کی زمین کا مضطر ! حساب لا
by Other Authors
200 کب سے گھرا ہوا ہوں صدا کے حصار میں میرے مجیب! میری فغاں کا جواب لا پیاسا ہوں، مجھ کو بخش دے نہر فرات غم اس دشتِ بے سحاب میں کوئی سحاب لا پاؤں میں اس کو روندتا پھرتا رہا ہے تو اللہ کی زمین کا مضطر ! حساب لا