اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 190 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 190

190 شیشے میں جو ہو جائے سفارش کی پری بند پھر شہر نہ دیہات نہ پنڈی نہ مری بند کچھ جبس بھی بڑھ جائے ، اندھیرا بھی سوا ہو کر دینا در بچوں کو مری جان! ذری بند اب لوگ لوگ سر عام لیے پھرتے ہیں شیشے شیشه شکنی بند ہے کے شیشہ گری بند منزل کی ہو خواہش تو نکل آتے ہیں رستے نیت ہو اگر نیک تو خشکی نہ تری بند طرفین میں ہے اب بھی محبت کا تعلق ہو گی نہ کبھی رسم و رہ نامہ بری بند لا عشق کا آزار نہ آشوب جنوں کا اک عقل کی آواز تھی سو تم نے کری بند لگتا ہے کہ مضطر پہ کوئی ہو گی عنایت نکلے ہو پہن کر جو سیاست کے پری بند