اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxiii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxiii

۲۰ پاکستان میں جماعت احمدیہ جن صبر آزما مراحل سے گزری اور گزررہی ہے اور جس طرح جماعت پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا یہاں تک کہ حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے عظیم فرائض منصبی کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی اور آپ کو بادل نخواستہ اپنے وطن عزیز سے ہجرت کرنی پڑی۔اگر ان صدمات کی صدائے بازگشت ان اشعار میں سنائی دے تو چنداں تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔شعر دراصل ظاہر کا باطنی عکس ہوا کرتا ہے۔سقوط ڈھا کہ ہو یا اظہار و بیان پر قدغن ، تو جلیں گے۔یہ مجموعہ جسے یہ فخر حاصل ہے کہ اس کا نام عالمی جماعت احمدیہ کے محبوب امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عطا فرمایا ہے وہاں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ جگہ جگہ اسے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے اصلاح سے نوازا ہے۔اس کے علاوہ اسے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت حافظ سید مختار احمد شاہجہانپوری اور حضرت شیخ محمد احمد مظہر نے بھی اس کے کچھ حصے سنے اور اصلاح سے نوازا۔ممکن ہے اس مجموعے میں کہیں کہیں ظاہری قواعد سے انحراف نظر آئے مثلاً مصرعے کے درمیان میں ” نہ “ کا دو حرفی استعمال وغیرہ۔اسی طرح اگر اس مجموعے میں کوئی اور خامی نظر آئے تو خاکسار اس کے لیے معذرت خواہ ہے اور اگر کوئی خوبی کی بات دکھائی دے تو قاری کا حسن نظر ہے۔دلی افسوس اس بات کا ہے کہ بہت سا کلام ضائع ہو گیا اور کچھ اینٹی احمد یہ آرڈینینس کی کرم فرمائی کے اندیشے کے پیش نظر اس مجموعہ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔عملاً اسے کلیات محمد علی بھی کہا جا سکتا ہے، اگر چہ یہ میری زندگی میں شائع ہو رہا ہے۔اگر یہ چند باقی ماندہ منتشر