اشکوں کے چراغ — Page 180
180 حادثہ وہ جو اب کے سال ہوا حسب أميد 6 حسب حال ہوا سن کے کہنے لگے مرا احوال صدمہ ہوا ، ملال ہوا ایک تجھ سے وفا کی تھی امید تو بھی لوگوں کا ہم خیال ہوا جس ނ تیرے بے وجہ مسکرانے پر ہم کو کیا کیا نہ احتمال ہوا پوچھو وہی فرشتہ ہے آدمی کوئی خال خال ہوا ایک بندہ، ہزار بندہ نواز بندگی کیا ہوئی، وبال ہوا دل مرحوم کو خدا بخش ایک ہی صاحب کمال ہوا کچھ تو دل کو قرار آئے گا تو ہوا یا ترا خیال ہوا عشق کی دار و گیر میں مضطر! ایک دل تھا جو پائمال ہوا