اشکوں کے چراغ — Page 175
175 جانے کیا جی میں ٹھان بیٹھے ہیں تیری محفل میں آن بیٹھے ہیں مجبوریاں اس طرف بھی تو یک نظر دیکھو ہم بھی اے مہربان! بیٹھے ہیں گنواؤ ہم تو پہلے ہی مان بیٹھے ہیں ہجر کا غم سب دلوں کو ٹٹول کر دیکھیں جس قدر صاحبان بیٹھے ہیں وصل کی امید جان ہے نہ جہان، بیٹھے ہیں ایک ہم ہیں جو تیری محفل میں بے غرض ، بے نشان بیٹھے ہیں اس طرف آگ، اُس طرف بھی آگ اور ہم درمیان بیٹھے ہیں اشک بر سے تو اس قدر برسے ڈھے گئے دل، مکان بیٹھے ہیں دوست احباب ہی نہیں مضطر! اور بھی بدگمان بیٹھے ہیں