اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 158 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 158

158 اگر آتا نہ ہو انکار پڑھنا کبھی اس عہد کے اخبار پڑھنا تم اپنا جھوٹ خود پڑھ کر سنا دو ہمیں آتا نہیں سرکار پڑھنا وفا کے جرم میں اہلِ وفا کو کبھی باغی ، کبھی غذار پڑھنا خدائی کا اگر دعوی کیا ہے دلوں کو بھی بت عیار! پڑھنا یہی تو ہے جھلک صبح ازل کی کسی چہرے کو پہلی بار پڑھنا میں مل کر آ رہا ہوں اک حسیں سے مجھے اے آئنہ بردار! پڑھنا مرا غم بن گیا ہے شہر کا غم مرے غم کو مرے غمخوار! پڑھنا مری فرد عمل سب سے چھپا کر مرے سید ، مرے ستار! پڑھنا تمھی چاروں طرف لکھے ہوئے ہو مرے دل کے در و دیوار پڑھنا بدل جائے گا مضطر! میرا مفہوم کبھی مجھ کو نہ اتنی بار پڑھنا