اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 144 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 144

144 پت جھڑ کی آنکھ ڈھونڈ تو لے گی ہمیں ، مگر اس شاخ سبز پر کوئی لمحہ بسر بھی ہو بیٹھے رہو اذیتوں کی پل صراط پر ممکن ہے اس طرف سے کسی کا گزر بھی ہو دوشِ صبا پہ سیر کو نکلی ہے چاندنی ایسا نہ ہو کہ راہ میں گل کا بھنور بھی ہو مضطر نے اپنے آپ سے کر لی مفاہمت پر یوں نہیں کہ اس کی کسی کو خبر بھی ہو