اشکوں کے چراغ — Page 133
133 ورائے اشک اسے عمر بھر پکارا تھا وہی سکون تھا دل کا، وہی سہارا تھا گل مراد کھلا تھا ہزار سال کے بعد چمن کا ورنہ روایات پر گزارہ تھا تمام عمر کئی کئی اور فیصلہ نہ ہوا که جرم عشق کا اس کا تھا یا ہمارا تھا جو ایک بار اسے دیکھا تو دیکھتے ہی رہے کوئی علاج تھا اس کا نہ کوئی چارہ تھا شب وصال میں فرقت کے فاصلے نہ گئے که وصل یار بھی فرقت کا استعارہ تھا یہ کس کا عکس اتر آیا تھا رگِ جاں میں کہ لاکھ پردوں میں چھپ کر بھی آشکارا تھا میں اپنی ذات سے آگے سفر پہ کیا جاتا کہ اس جزیرے کے چاروں طرف کنارہ تھا