اشکوں کے چراغ — Page 92
92 46 اس کو اتنا آزمانا تھا نہ وہ حقیقت نہیں فسانہ تھا شهر مسحور کے مسافر کا ٹھور تھا ترجمے اس کے چھپ چکے تھے کئی دل کا قصہ بہت پرانا تھا کوئی ٹھکانہ تھا عہد کو نیند آ گئی تھی اگر جھنجھوڑنا تھا اسے جگانا تھا سب مسافر تھے اپنے اندر کے جو تھا اپنی طرف روانہ تھا تو نے واعظ سے دوستی کر لی ور نہ تو اس قدر برا نہ تھا آنکھ کے اجنبی پرندے کو منہ اندھیرے ہی لوٹ جانا تھا ایک دو روز کی یہ بات نہ تھی عمر بھر اس کو مسکرانا تھا کیوں اکیلے الجھ گئے خود سے تم نے مضطر ! ہمیں بتانا تھا