اشکوں کے چراغ — Page 82
82 48 یادوں کی بارات لیے پھرتا ہوں میں صدیاں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہوں میں فرقت کے لمحات لیے پھرتا ہوں میں کتنی لمبی رات لیے پھرتا ہوں میں سوچ رہا ہوں آئینه در آئینه ذات کے اندر ذات لیے پھرتا ہوں میں تیرا نام سجا کر اپنے ماتھے پر ساری ساری رات لیے پھرتا ہوں میں مجھ کو بھی معلوم نہیں وہ بات ہے کیا سینے میں جو بات لیے پھرتا ہوں میں برسوں گا تو مضطر ! کھل کر برسوں گا بادل ہوں، برسات لیے پھرتا ہوں میں