اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 81 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 81

81 پھر تیر تبسم کا نشانے لگا ہے لگتا ہے اسی زخم پرانے پہ لگا ہے ساحل کے نشانات مٹانے یہ لگا ہے یہ بند جو دریا کے دہانے پہ لگا ہے رکھ لینا اسے عشق کا انعام سمجھ کر پتھر جو مرے آئینہ خانے پہ لگا ہے اب آج سے اس شہر کا ہر شخص ہے مجرم نوٹس یہ کھلے شہر کے تھانے پہ لگا ہے ہر لمحہ تازہ ہے نئی شان کا حامل دل ہے کہ اسی اگلے زمانے پر لگا ہے تھکتا ہی نہیں، مفت کی مے بانٹ رہا ہے یہ کون ہے جو پینے پلانے پہ لگا ہے خوشبو کو، تبسم کو چھپا کر نہیں رکھتے الزام یہ پھولوں کے گھرانے پہ لگا ہے گرتی ہوئی دیوار تو گرنے کو تھی مضطر ! سیلاب کا ریلا بھی ٹھکانے پہ لگا ہے پ کی پنجابیت پر معذرت کے ساتھ۔