اشکوں کے چراغ — Page 80
80 ذرے ذرے میں دشت ہیں آباد قطرے قطرے میں رقص بادہ ہے پھول میں جل رہا ہے خونِ بہار چاندنی چاند کا برادہ ہے عقل گردوں سوار ہے اب تک دل بدستور پاپیادہ ہے رقص کون و مکاں تمام ہوا کوئی منزل رہی نہ جادہ ہے تو نے جو کچھ دیا ہے مضطر کو اس کی امید سے زیادہ ہے