اشکوں کے چراغ — Page 79
79 بادہ خواروں کو اذن بادہ ہے محسن معصوم، عشق سادہ ہے مسکراتا پھرے ہے صحرا میں قیس کا جانے کیا ارادہ ہے زندگی ہے تو درد ہے پیارے! زندگی درد کا لبادہ ہے سارا حسن نظر کا ہے اعجاز حسن عیار ہے نہ سادہ ہے گل بھی ہیں، خار بھی ہیں گلچیں بھی گلشن بہت کشادہ ہے کھا رہا ہے چمن کو سناٹا سرو خاموش ایستاده ہے پتے پتے میں منتظر ہے خزاں کانٹا کانٹا بہار زادہ ہے