اشکوں کے چراغ — Page 70
70 چہرے تو میر ملک نے نیلام کر دیے کیا دیکھتا ہے، بیچ دے چہروں کے خول بھی تو فیصلہ تو کر مگر اتنا نہ مسکرا ایسا نہ ہو کہ ڈھول کا کھل جائے پول بھی ہو گا اک اور فیصلہ اس فیصلے کے بعد راترا نہ اس قدر کہ یہ دُنیا ہے گول بھی انصاف اٹھ گیا ہے، ترا خوف مٹ گیا اے رب ذوالجلال و الاکرام! بول بھی مضطر ! لہو سے ڈھل گئیں دل کی سیاہیاں سورج چڑھا ہوا ہے ، ذرا آنکھ کھول بھی