تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 61
61 دہلی میں حضرت اقدس مسیح موعود کے ہمراہ تھے۔قادیان میں سکونت اور خدمت سلسلہ : آپ ۱۸۹۲ء سے حضرت اقدس کی خدمت میں قادیان تشریف لایا کرتے تھے۔بعد میں ۱۸۹۹ء میں مستقل طور پر قادیان میں رہائش رکھ لی۔حضرت اقدس کی حیات کے واقعات پر آپ نے ایک ایمان افروز کتاب " تذکرۃ المہدی“ کے نام سے تصنیف کی۔۱۹۰۱ء میں مردم شماری کے وقت احمدی مسلمان کا نام آپ کی تجویز پر دیا گیا۔حضرت اقدس کی خط و کتابت میں بھی آپ مدددیتے رہے۔حضرت اقدس کی کتب میں آپ کا ذکر : حضرت اقدس نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں صفحہ ۵۳۴ پر آپ کا ذکر یوں فرمایا ہے: ”صاف باطن یک رنگ اور لہی کاموں میں جوش رکھنے والے اور اعلائے کلمہ حق کے لئے بدل و جان ساعی وسرگرم ہیں۔اس سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے خدا تعالیٰ نے جوان کے لئے تقریب پیدا کی وہ ایک دلچسپ حال ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والے احباب اور چندہ دہندگان میں آپ کا ذکر ہے۔اسی طرح تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُر امن جماعت میں ذکر ہے۔نورالقرآن نمبر ۲ صفحہ ۷۹۔۸۰ پر آپ کا نام دیگر خدمتگاروں میں درج ہے۔ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۲۹ پر آپ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس نے فرمایا " صاحبزادہ پیر جی سراج الحق نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کر کے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔علاوہ ازیں متعدد مواقع پر بعض مجالس کے ضمن میں ملفوظات میں تذکرہ ہے۔تصنيفات: (۱) تذکرۃ المہدی (حصہ اول، دوم) (۲) خمس (۳) علم القرآن (۴) قاعده عربی (۵) پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے فیصلہ کا ایک طریق (۶) سراج الحق حصہ اول تا پنجم آپ کی علمی یادگار ہیں۔وفات آپ کی وفات ۳ /جنوری ۱۹۳۵ء کو ہوئی۔اولاد: آپ کی اولاد میں ایک بیٹا فرقان الرحمن چھوٹی عمر میں فوت ہو گیا جو پہلی بیوی سے تھا آپ کی بیٹی مکرمہ محمودہ ناہید صاحبہ راولپنڈی میں ہیں جو مکرم سید احمد شاہ صاحب مرحوم مبلغ سلسلہ مشرقی افریقہ کی خوشدامن ہیں۔حضرت پیر صاحب کے تین نوا سے اور تین نواسیاں ہیں ایک نواسہ سید مبشر احمد صاحب کے بیٹے مکرم سید عمران احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) نور القرآن نمبر روحانی خزائن جلد ۲ (۴) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۵) تذکرۃ المہدی (۶) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ و ۲ (۷) تاریخ احمدیت جلد ہشتم In The Company of Promised Messiah" (9) الفضل‘۱۲ مارچ ۱۹۷۸ء۔