تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 314
314 ۲۹۶۔حضرت عبدالعزیز صاحب عرف عزیز الدین ناسنگ ولادت: ۱۸۵۷ء۔بیعت:۱۸۹۲ء سے قبل تعارف و بیعت: (نوٹ) حضرت عزیز دین شیخ صاحب ساکن پٹی ( آئینہ کمالات اسلام میں ۲۶۰ نمبر ) کے حالات کونام کی مناسبت سے مطلوبہ زیرنظر رفقاء ربانی سلسلہ ۳۱۳ میں رکھا گیا ہے۔مزید تحقیق جاری ہے۔حضرت خلیفۃ اصیح الرابح بیان فرماتے ہیں۔انہوں نے سنا کہ قادیان میں ایک شخص خود کو مجدد کہتا ہے۔۱۸۸۹ء میں یہ قادیان گئے اور ایمان لے آئے مگر باضابطہ بیعت ۱۸۹۲ء میں کی۔انہوں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک بار فرمایا کہ میں بڑ کے درخت کے نیچے بڑے بڑے مکانات دیکھتا ہوں۔یہ شہر دریائے بیاس تک پھیل گیا ہے۔قادیان کے بازاروں میں بڑے بڑے سیٹھ جواہرات رکھے بیٹھے ہیں۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا امید ہے کہ یہ روایت اپنے وقت پر پوری ہوگی اور قادیان بیاس تک پھیل جائے گا۔ان کی روایت ہے کہ ان کو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب پر بڑا اعتماد تھا۔یہ کہتے ہیں کہ میں ان کی بڑی خدمت کرتا تھا۔ہمارے علاقے کا چوہدری ماجھی خان بھی مولوی صاحب کی بہت خدمت کرتا تھا۔میں مولوی محمد حسین کو ملا تو وہ قصاب کی دکان پر گوشت خرید رہے تھے۔مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور پاؤ بھر گوشت میرے لئے اور لے لیا۔میں نے کہا کہ میں قادیان میں جاؤں گا مولوی صاحب نے کہا ہرگز نہ جانا وہاں تو دکانداری بنائی ہوئی ہے۔میں نے کہا خواہ دکانداری ہو، جانا ضرور ہے۔پھر مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ اچھا جاؤ مگر بیعت میں شامل نہ ہو جانا اور ان کی روٹی نہ کھانا۔مولوی صاحب نے پراٹھے پکوا کر قیمہ رکھ کر ساتھ دے دیا کہ آنکھیں بھی نہ ملانا۔میں نے کہا میں آنکھیں نیچی رکھوں گا۔ساری رات مولوی محمد حسین صاحب مجھے کہتا رہا کہ نہ جاؤ۔یہ بتاتے ہیں کہ میں روانہ ہوا۔نہر پر پہنچا تو مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔ایک پر اٹھا میں نے وہیں کھا لیا باقی باندھ لیا۔قادیان پہنچا۔حضرت صاحب کی خدمت میں مولوی محمد حسین صاحب کی با تیں عرض کیں۔حضور ہنسے۔میں نے بیعت کر لی۔واپس بٹالے گیا تو میں نے بتایا کہ میں نے بیعت کر لی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ بہت خراب کام کیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ اب میں فتوے کا انتظام کرتا ہوں۔“ نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) بیان فرموده حضرت خلیفہ مسیح الرابع از لفضل ۱۲۱ اگست ۱۹۹۹ء۔