تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 313 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 313

313 ”میاں کریم بخش ولد غلام رسول ساکن عباس پور قوم ارائیں پیشہ زمینداری تحریر ہے۔مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ نے میاں کریم بخش کو بہت روکا اور سمجھایا کہ یہ شہادت گلاب شاہ کی نہ بیان کرے لیکن یہ باخدا، خدا ترس اور متقی شخص اس سے باز نہ آئے۔سن ۱۸۷۱ء میں نابھہ کے راجہ ہیر اسنگھ تھے۔خود سکھ تھے مگر دوسرے مذاہب کے لوگوں کی بھی قدر کرتے تھے۔ایک دفعہ دربار کے موقع پر نمبردار حاضر تھے۔میاں کریم بخش صاحب نمبر دار موضع رائے پور کو بلوایا اور کہا کہ میاں کریم بخش یہ جو اس وقت تینوں فرقوں کے تقریباً بارہ سولوگ جمع ہیں ان میں سے مجھے تمہارے اخلاق کیوں پسند ہیں؟ انہوں نے عرض کیا مجھے تو اپنے اندر ایسی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔تاہم یہ ضرور ہے کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا مرید ہوں۔اور وہ چونکہ اس زمانہ کے اوتار اور گورو ہیں۔ان کی صحبت میں رہ کر میں یہ فیض حاصل کرتا ہوں۔مہاراجہ صاحب نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا تھوڑی دیر ٹھہرو میں ابھی آیا اور میاں کریم بخش صاحب کو ہمراہ لے کر محل کے اندر چلے گئے۔فرمایا یہ جو تصویر میں اس کمرہ میں لگی ہوئی ہیں ان کی طرف دیکھو وہ ساری تصویریں گوروؤں کی تھیں۔جس طرح اور گوروؤں کی تصاویر سنہری چوکھٹوں میں لگی ہوئی تھیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی قد آدم تصویر بھی سنہری چوکھٹے میں لگی ہوئی تھی اور کہا دیکھو میاں کریم بخش یہ تصویر پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے۔“ پھر مسند پر بیٹھ گئے اور چوبدار کو باہر بھجوا دیا اور فرمایا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو میری طرف سے درخواست کرو اور حضور کو ہمراہ لے کر یہاں آؤ۔ان کی آمد و رفت کے تمام اخراجات میں برداشت کروں گا۔میں ضعیف العمر ہوں وہاں نہیں جاسکتا۔میاں کریم بخش صاحب قادیان گئے اور مہاراجہ صاحب کی طرف سے درخواست بھی کر دی۔حضرت اقدس نے فرمایا۔ان سے جا کر عرض کر دیں کہ کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا بلکہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے۔“ چوہدری کریم بخش صاحب نے راجہ صاحب کی خدمت میں حضرت صاحب کا جواب عرض کر دیا تو راجہ صاحب نے کہا کہ اگر ہم وہاں جائیںتو انگریز ہم کو فورا گدی سے اتار دیں گے۔نوٹ: اس نام کے ایک بزرگ منصوراں ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے اور جمال پور میں مدرس تھے۔جب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جمال پور میں جلسہ کرنے گئے تو ان ہی کے پاس ٹھہرے تھے۔آپ حضرت منشی (صوفی ) احمد جان صاحب کے مرید تھے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) ضمیمه انجام آنقم روحانی خزائن جلدا (۳) تذکرۃ الشہا دتین روحانی خزائن جلد ۲۰ (۴) نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ۲ (۵) تذکرۃ المہدی صفحه ۱۲۷ (۶) الفضل ۲۱ فروری ۱۹۸۹ء (۷) اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۱۳ تا ۱۶ ( ۸ ) اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۳ ۱۴ (۹) تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۶۔