تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 285
285 ☆ ۲۵۴۔حضرت بابو غلام رسول صاحب۔بھیرہ ولادت : ۱۸۷۸ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۱۹ء تعارف اور بیعت : حضرت با بو غلام رسول رضی اللہ عنہ اعوان برادری سے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۷۸ء میں ہوئی۔ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے۔فرنٹئیر میں کسی اسٹیشن پر متعین تھے۔۱۸۹۲ء میں آپ نے بیعت کی۔ایک پٹھان نے آپ کو احمدیت کے باعث قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور کئی دفعہ مواقع کی تلاش کرتار ہا لیکن ناکام رہا اور اس کے دل میں خوف طاری ہو گیا۔اس نے نہ صرف یہ ارادہ ترک کر دیا بلکہ آپ کی خدمت کرنے لگا۔اس کے بعد بابو صاحب تبدیل ہو کر بھیرہ گئے۔آپ مقامی جماعت کے سرگرم رکن تھے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) تاریخ احمدیت بھیرہ صفحہ ۶۹-۷۰۔۲۵۵۔حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم بھیرہ ولادت : ۱۸۷۲ء۔بیعت : ۱۴ / دسمبر ۱۸۹۰ء۔وفات : ۴ / جون ۱۹۵۲ء تعارف: حضرت شیخ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( سابق سردار مہر سنگھ) ڈومیلی تحصیل پھگواڑہ (ریاست کپورتھلہ ) ضلع ( جالندھر کے ایک سکھ خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ کا نام والدین نے مہر سنگھ رکھا تھا۔آپ کی ولادت سال ۱۸۷۲ء کو ہوئی۔آپ کے والد صاحب کا نام سردار دسوندھا رام تھا۔بیعت : سکھ قوم کی جہالت اور ہندوانہ طرز معاشرت سے نالاں تو تھے ہی۔بغرض علاج حضرت مولوی خدا بخش صاحب جالندھری کی وساطت سے حضرت حکیم مولانا نورالدین کی خدمت میں بغرض علاج بھیرہ تشریف لے گئے۔بعد میں ۱۸۹۰ء میں قادیان حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کر لی۔آپ نے پندرہ سال کی عمر میں ۱۴؍ دسمبر ۱۸۹۰ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۲۱۱ نمبر پر درج ہے۔بھیرہ میں دسویں تک تعلیم حاصل کی اور قادیان میں بی۔اے کیا۔۱۹۰۲ء میں آپ کی شادی حضرت خلیفہ نوردین جموٹی کی صاحبزادی غلام فاطمہ سے ہوئی جن کو حضور کے گھر خدمت کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ نے ۳۶ علمی و تحقیقی کتب تصنیف کیں۔آپ سے مروی روایات ”سیرت المہدی“ میں درج ہیں۔بیعت کے ریکارڈ میں