تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 226
226 حسین صاحب رہتاسی لنگر خانہ حضرت مسیح موعود میں بطور خادم کے کام کیا کرتے تھے۔آپ کے بیٹے ملک محمد حسین صاحب کے بارہ میں حضور کو الہام ہوا محمد حسین ڈپٹی کمشنر بنے گا اور جو غیر معمولی حالات میں پوری ہوئی جبکہ وہ مشرقی افریقہ چلے گئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام میں چندہ دہندگان ،تحفہ قیصریہ ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت میں فرمایا ہے۔اولاد: آپ کے بیٹے حضرت ملک محمد حسین صاحب تھے جو مشرقی افریقہ چلے گئے۔وفات : آپ کی وفات آپ کے بیٹے ملک محمد حسین کے پاس 4 جنوری ۱۹۵۴ء کو نیر و بی مشرقی افریقہ میں ہوئی اور اہلیہ صاحبہ نے وہیں ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو وفات پائی۔دونوں میاں بیوی احمد یہ قبرستان نیروبی میں دفن ہیں۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن ۱۳ (۵) مضمون مطبوعه روزنامه الفضل ۱۹ر جون ۲۰۰۰ء (۶) روزنامه الفضل ۳ /۱اپریل ۲۰۰۲ء ( ۷ ) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۲ ☆ ۱۸۲۔حضرت میاں نظام الدین صاحب۔جہلم بیعت: جولائی ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حضرت میاں نظام الدین رضی اللہ عنہ جہلم کے تھے۔رجسٹر بیعت میں مولوی نظام الدین نام کے کئی بزرگ ہیں۔رجسٹر بیعت اولی میں جہلم والے مولوی نظام الدین کا نام شیخ نظام الدین ولد محمد باشم دوکاندار ۳۴۶ نمبر پر ہے ( تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۶۲) جبکہ ملا نظام الدین لدھیانہ کا نام ۶۰ نمبر پر ہے۔جن کا حضرت اقدس کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھانے کا واقعہ ہے۔حضرت میاں نظام الدین رنگ پور والوں کا نام ۲۵۶ نمبر پر اندراج ہے ”نظام الدین ولد میاں غلام علی قوم اعوان رنگ پور تحصیل و ضلع مظفر گڑھ پنجاب ( تاریخ احمدیت جلدا صفحه ۲۵۹ مگر ان کا نام فہرست ۱۳۱۳ انجام آتھم میں نہیں۔) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں چندہ دہندگان اور جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں میں آپ کا ذکر کیا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد ۱ (۳) تذكرة المهدی صفحه ۱۵۵ تا ۱۵۸ (۴) مضمون مطبوعه روزنامه الفضل ۱۶ / دسمبر ۱۹۸۱ء۔