تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 225
225 اوہام میں فرمایا دغشی کرم الہی صاحب بھی اس عاجز کے یک رنگ دوست ہیں۔“ جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں بھی شریک ہوئے۔جلسہ ڈائمنڈ جوبلی ۱۸۹۹ء میں بھی شامل ہوئے اور چار آنے چندہ دیا۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ ( ۵ ) لا ہور تاریخ احمد بیت صفحه ۱۴۹ ☆ ۱۸۰۔حضرت میاں عبد الصمد صاحب۔نارووال بیعت: ابتدائی ایام میں تعارف و بیعت : آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔آپ تحصیل نارووال کے ایک گاؤں مانک کے رہنے والے تھے۔آپ کا خاندان وہیں آباد ہے۔محترم محمد یعقوب امجد صاحب مرحوم آف کھاریاں کے بیان کے مطابق آپ نے نارووال شہر کی بیت میں کئی مرتبہ انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔آپ کی وفات قیام پاکستان کے بعد ہوئی۔نوٹ مزید تحقیق جاری ہے۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن ۱۱۔۱۸۱۔حضرت میاں غلام حسین معہ اہلیہ رہتاس بیعت : ۹/اکتوبر ۱۸۹۲ء۔وفات: ۶ /جنوری ۱۹۵۴ء تعارف و بیعت : حضرت میاں گلاب دین اور حضرت میاں غلام حسین رہتاس ضلع جہلم کے تھے۔اپنی ہمشیرہ رانی ( زوجہ علی بخش ) کی خواب کہ آسمان پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے اور ہر طرف روشنی پھیل گئی ہے پر براہین احمدیہ کا مطالعہ کیا۔اس کے بعد مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کے سفر قادیان سے واپسی پر جہلم جا کر کچھ اعتراض کئے تو موصوف نے فرمایا کہ پہلے اسے جا کر دیکھ آؤ پھر میرے ساتھ بات کرنا۔چنانچہ حضرت منشی گلاب دین قادیان گئے تو آپ کے قریبی رشتہ دار بھی حضرت اقدس مسیح موعود کی زیارت کے لئے قادیان گئے۔حضرت اقدس سیر سے واپس آ رہے تھے۔آپ کی زیارت اور ملاقات کے بعد واپس آگئے اور حضرت اقدس کو بیعت کا خط لکھ دیا۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کا نام ۳۵۷ پر درج ہے۔حضرت ملک غلام