تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 120 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 120

120 ڈاکٹر محمد اسمعیل خانصاحب جھجھر ضلع رہتک کے ایک پٹھان تھے جو حضرت اقدس مرزا صاحب کے مخلص مریدوں میں سے تھے۔ایک استفسار پر حضرت مرزا صاحب نے ۲۷ /جنوری ۱۸۹۹ء کو ایک اشتہار کے ساتھ ان فتاوی کو شائع کیا اور لکھا کہ کس طرح وہ پیشگوئی جَزَاءُ سَيِّئَةٍ۔۔۔الخ جو ۲ رنومبر ۱۸۹۸ء کو شائع کی گئی تھی واقعات کے رنگ میں پوری ہوگئی۔کیا استفسار میں درج کردہ عقیدہ وہی نہیں جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریزی رسالہ میں اپنا عقیدہ ظاہر کر کے انگریزوں سے زمین حاصل کرنی چاہی ہے۔( مجدد اعظم جلد دوم صفحہ ۵۹۷) ۱۸۹۸ء میں ہندوستان واپس آئے۔ہندوستان آنے کے بعد آپ کی ڈیوٹی پلیگ کی وباء پر ضلع جالندھرو ہوشیار پور میں لگا دی گئی۔اسی سلسلہ میں آپ ضلع گورداسپور میں بھی متعین رہے۔حضور جب مقدمہ کے سلسلے میں گورداسپور جاتے تو آپ کے پاس بھی قیام فرماتے۔آپ ایک پر جوش داعی الی اللہ تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک رسالہ گورنمنٹ کو خوش کرنے اور زمینیں حاصل کرنے کے لئے لکھا جس میں لکھا کہ مسلمانوں کے آمد مہدی کے عقیدہ کی کوئی سند نہیں ہے اور اس سے انکار کیا۔ڈاکٹر محمد اسماعیل یہ استفتاء دہلی اور امرتسر کے علما کے پاس لے گئے جنہوں نے لکھدیا کہ مہدی کے آنے کا منکر کافر ہے۔جب یہ فتویٰ شائع ہوا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی علماء کے پاس جا کر روئے پیٹے۔تو اہلحدیث علما نے لکھ دیا کہ ہم نے جو فتویٰ دیا تھا وہ مرزا صاحب کے خلاف تھا مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق نہ تھا۔لوگ ان علماء کی حرکت پر متعجب تھے لیکن حنفی علماء اس فتوے پر قائم رہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں اپنی پر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔اولاد: آپ کی اولاد میں سے ایک بچی کا ذکر آتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہاں کہاں پر تھی اور اس کی اولا دکہاں ہے۔وفات : آپ نے ۹ رجون ۱۹۲۱ء میں وفات پائی اور آپ بلا وصیت بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۳ حصہ نمبر۲ میں دفن ہوئے۔آپ کی وفات والے دن صبح ہی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( مصلح موعودؓ ) نے آپ کی وفات کے متعلق رویا دیکھی تھی۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) ذکر حبیب صفحه ۵۱-۵۲ (۳) لاہور تاریخ احمدیت صفحه ۲۳۰ (۴) روزنامه الفضل ربوه ۲۲ را پریل ۲۰۰۰ء - (۵) مکتوبات احمد جلد ہفتم حصہ اول صفحه ۳۷ (۶) مجد داعظم صفحہ ۵۶۷