تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 86
86 ☆ ۴۱۔حضرت میرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری معہ اہلبیت ولادت: یکم اگست ۱۸۷۵ء۔بیعت : یکم فروری ۱۸۹۲ء۔وفات : ۲۸ را پریل ۱۹۰۰ء تعارف و بیعت حضرت اقدس: مرزا ایوب بیگ رضی اللہ عنہ چیفس کالج لاہور میں پروفیسر تھے۔آپ نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ سے چند دن پہلے یکم فروری ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۲۱۷ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس سے تعلق محبت : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق تھے۔۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو جو وفد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چولہ باوانا تک صاحب کی تحقیقات کے لئے ڈیرہ بابا نا تک بھیجا آپ اس میں شامل تھے۔آپ کسوف و خسوف کے آسمانی نشان کو دیکھنے کے لئے قادیان گئے تھے اور حضرت اقدس کے ساتھ اس آفاقی نشان کا مشاہدہ کیا تھا۔وفات اور حضرت اقدس کا ذکر خیر کرنا : آپ کی وفات عین جوانی میں بعمر ۲۵ سال ۲۸ / اپریل ۱۹۰۰ء کو ہوئی تھی۔بہشتی مقبرہ کے قیام کے بعد حضرت اقدس کے ارشاد پر تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔حضرت اقدس نے آپ کے بھائی مرزا یعقوب بیگ کے نام جو تعزیت نامہ تحریر فرمایا اس میں لکھا:۔ہماری توجہ اس عزیز کی طرف تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے نا پدید ہو گیا تو اس حالت میں یک دفعہ الہام ہوا: ”مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہو، یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عزیزی مرحوم کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو حضرت اقدس نے ملفوظات میں فرمایا :۔نزول اصیح روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۶۰۰ ) ”ہماری جماعت جواب تک ایک لاکھ پہنچی ہے سب اس میں بھائی ہیں اس لئے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوا کہ کوئی دردناک آواز نہ آئی ہو۔جو گزر گئے وہ بعد بڑے ہی مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں ،سید فصیلت علی شاہ صاحب، ایوب بیگ صاحب اور منشی جلال الدین صاحب خدا ان سب پر رحم کرے۔(ص ۳۰۶،۳۰۵) اسی طرح ایک جگہ تحریر فرمایا کہ: مرحوم مذکور نیک بخت جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا (نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ص۶۰۰) آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۲ حصہ نمبر ۵ بلا وصیت منتقلی ہوئی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کی فہرست میں نام درج ہے۔ملفوظات جلد اول و دوم میں بھی آپ کا ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۱ پر اپنے مخلص احباب میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”مرزا ایوب بیگ جوان صالح میں نے بار ہا ان کو نمازوں میں روتے دیکھا ہے۔اور نور القرآن نمبر۲ پر امام کامل کی خدمت میں مصروف رہنے والے احباب میں ذکر ہے۔