تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 59
59 قادیان میں آپ نے مطبع ضیاء الاسلام قائم کیا جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں چھپتی تھیں۔اس کے علاوہ مدرسہ احمدیہ کے سپرنٹنڈنٹ اور کتب خانہ حضرت مسیح موعود کے مہتم اور لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کا کام آپ کے سپر د تھا۔حضرت اقدس کے چھ گروپ فوٹوز میں سے چار میں شامل ہونے کا آپ کو اعزاز ملا۔حضرت اقدش کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس فتح اسلام میں فرماتے ہیں: وو حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے 66 ہیں میں اس کے بیان سے قاصر ہوں۔وہ میرے بچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔۔ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں اور کئی سو روپیہ پوشیدہ طور پر محض ابتغاء لمرضات اللہ اس راہ میں دے چکے ہیں خدا تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔وہ (فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸) حضرت اقدس نے آپ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے ازالہ اوہام میں فرمایا: د حکیم صاحب اخویم مولوی حکیم نورالدین کے دوستوں میں سے ان کے رنگ اخلاق سے رنگین اور بہت با اخلاص آدمی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ ان کو اللہ اور رسول سے سچی محبت ہے اور اسی وجہ سے وہ اس عاجز کو خادم دین دیکھ کر حب للہ کی شرط کو بجالا رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دین کی حقانیت کے پھیلانے میں اسی عشق کا وافر حصہ ملا ہے جو تقسیم ازلی سے میرے پیارے بھائی حکیم نورالدین صاحب کو دیا گیا ہے۔وہ اس سلسلہ کے دینی اخراجات بنظر غور دیکھ کر ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ چندہ کی صورت پر کوئی ان کا احسن انتظام ہو جائے چنانچہ رسالہ فتح اسلام جس میں معارف دینیہ کی پنج شاخوں کا بیان ہے انہیں کی تحریک اور مشورہ سے لکھا گیا تھا۔ان کی فراست نہایت صحیح ہے۔وہ بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں اور ان کا خیال ظنون فاسدہ سے مصفی اور مزکی ہے۔رسالہ ازالہ اوہام کے طبع کے ایام میں دوسور و پید ان کی طرف سے پہنچا اور ان کے گھر کے آدمی بھی ان کے اس اخلاص سے متاثر ہیں اور وہ بھی اپنے کئی زیورات اس راہ میں محض اللہ خرچ کر چکے ہیں۔حکیم صاحب موصوف نے باوجود ان سب خدمات کے جوان کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں۔خاص طور پیج روپے ماہواری اس سلسلہ کی تائید میں دینا مقرر کیا۔جزاهم الله خير الجزاء و احسن عليهم في الدنياء والعقبي۔66 ازالہ اوہام میں معاونت اشاعت میں کئی سو روپے ہوئے مستقل چندہ دہندگان میں بھی آپ کا ذکر ہے۔آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ میں ذکر و بعض الانصار کے تحت حضرت حکیم صاحب کا نام درج فرمایا ہے اور جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں نمبر پر آپ کا نام درج فرمایا اسی طرح تحفہ قیصریہ اور سراج منیر کتاب البریہ اور آریہ دھرم میں اپنی پُر امن جماعت اور چندہ دہندگان میں ذکر فرمایا ہے۔پھر انجام آتھم