تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 48
48 ”میاں نبی بخش مرحوم جو پہلے محض رفوگر تھے اور حضرت کی بیعت کے بعد ان کے کاروبار میں اس قدر ترقی ہوئی کہ وہ ایک مشہور تاجر پشمینہ ہو گئے (جن کا کاروبار جنوبی ہندوستان اور کلکتہ تک پھیل گیا۔) وہ حضرت کی مجلس میں آتے تھے اور خاموشی سے حالات کا مطالعہ کرتے تھے وہ کچھ بہت پڑھے لکھے آدمی نہ تھے مگر صاحب شعور تھے اور سینہ صاف تھے قبول حق کے لئے کوئی روک نہ ہو سکتی تھی۔انہوں نے بیعت میں مسابقت کی اور حضرت اقدس اور آپ کے موجودہ خدام کی ایک شاندار دعوت کی جس کو پشمینہ کی چادروں سے آراستہ کیا ہوا تھا۔۔۔بیعت : حضرت اقدس صبح کو مع تمام احباب نبی بخش صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔کھانے کے بعد شیخ نبی بخش نے بیعت کر لی۔ملک مولا بخش (۱۸۷۹ء۔۱۹۴۷ء) بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت جو میاں نبی بخش نے کی تھی۔وہ ان کے مکان کے صحن میں ہوئی تھی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی، چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔دینی خدمات : ۱۸۹۸ء میں امرتسر میں مسجد احمدیہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔حضرت میاں نبی بخش صاحب نے اپنا ایک مکان قیمتی بارہ سو ساٹھ روپیہ مسجد کے لئے سات سو روپیہ پر دینا منظور کیا اور باقی پانچ سو ساٹھ روپے بطور چندہ کے محسوب کروائے۔وفات اور اولاد : آپ کی وفات ۳ جولائی ۱۹۱۸ء کو ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔آپ کے تین بیٹے تھے جن کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ماخذ (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) رساله نور احمد “ صفحه ۲۹ (۵) ” اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۱۲۱۔(۶) حیات احمد جلد چہارم حصہ دوم صفحه ۴۹ (۷) الحکم ۲۷ / مارچ و ۶ اپریل ۱۸۹۸ء صفحہ ۷ کالم ۱۔☆ ۱۸۔حضرت میاں عبد الخالق صاحب رفوگر۔امرتسر بیعت: ۱۸۹۳ء۔وفات : نومبر ۱۹۱۵ء تعارف و بیعت : حضرت میاں عبد الخالق امرتسری رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود کے مباحثہ آتھم ۱۸۹۳ء کے قیام امرتسر کے دوران حضرت نبی بخش رفو گڑ کے ساتھ ہی بیعت کی تھی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب نزول مسیح میں اپنے بعض نشانات کے