تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 34 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 34

34 اوصاف علی خاں آف مالیر کوٹلہ ) کی بیٹی محترمہ قیصرہ خانم سعید صاحبہ، حضرت مصلح موعودؓ کے فرزند صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب کے عقد میں آئیں۔حضرت میاں محمد خاں صاحب کے بیٹے حضرت بشیر احمد خان کی بیٹی سعیدہ خانم کا عقد مکرم راجه فضل داد خان صاحب آف ڈلوال ضلع جہلم ( حال چکوال) کے ساتھ ہوا جن کے بیٹے مکرم راجہ نصر اللہ خان صاحب ربوہ ہیں جو ایک معروف قلم کار ہیں۔حضرت عبدالمجید خان صاحب کی بیٹی مکر مہ امتہ اللہ صاحبہ کی شادی خان عبدالمجید خان آف ویرووال کے ساتھ ہوئی جو پروفیسر نصیر احمد خان صاحب مرحوم اور محترمہ منصورہ ڈاہری اور حضرت طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ حرم خلیفہ ثالث ہیں۔دیگر بیٹے کرنل ایاز محمود صاحب سابق صدر عمومی ربوہ اور امین اللہ صاحب سالک ہیں۔مکرم محمد ابراہیم خان صاحب کے بیٹے مکرم شاہد اضوان خان صاحب جو مولانا ابومنیر نور الحق صاحب کے داماد ہیں ان کے بیٹے دانش احمد خان صاحب جامعہ احمدیہ کے طالب علم ہیں۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱ (۶) من الرحمن روحانی خزائن جلد ۹ (۷) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم (۸) ملفوظات جدید ایڈیشن جلد سوم وجلد پنجم (۹) خطبات نکاح از حضرت خلیفہ اسیح الثانی (۱۰) اصحاب احمد جلد چہارم (۱۱) مضمون ” حضرت میاں محمد خان روزنامه الفضل ربوه ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ (۱۲) ماہنامہ انصار اللہ ماہ اگست ۱۹۹۲ء۔☆ ،، ۹۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب۔۔۔کپور تھلہ ولادت: ۱۲۸۰ھ بمطابق ۱۸۶۳ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۲۰ راگست ۱۹۴۱ء تعارف: حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ عنہ کی پیدائش ۱۲۸۰ ھ میں باغپت ضلع میرٹھ میں ہوئی۔آپ کے والد صاحب کا نام شیخ مشتاق احمد صاحب عرف محمدابراہیم تھا۔سترہ سال کی عمر تک مختلف سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔آپ اپیل نویس حضرت اقدس سے عقیدت : جب براہین احمدیہ چھپی تو حضرت مسیح موعود نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو بھیجا جو کپورتھلہ میں مہتم بندوبست تھے۔حاجی صاحب براہین احمدیہ کا نسخہ اپنے وطن سرا وہ ضلع میرٹھ میں لے گئے۔وہاں عند الملاقات براہین احمدیہ حضرت منشی ظفر احمد کو دے دی۔منشی صاحب اس کتاب کو پڑھا کرتے اور اس کی فصاحت و بلاغت پر عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص بے بدل لکھنے والا ہے۔براہین کو پڑھتے پڑھتے منشی صاحب کو حضرت صاحب سے محبت ہو گئی اس کے تھوڑے عرصے بعد منشی صاحب کپورتھلہ آگئے۔حضرت اقدس سے آپ کی پہلی ملاقات ۱۸۸۴ء۔۱۸۸۵ء میں جالندھر میں ہوئی۔